انسان جب اس دنیا میں مادی وسائل، جسمانی قوت، مالی استحکام اور سیاسی غلبے جیسے موافق حالات (supporting systems) کے سہارے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کرتا ہے، تو وہ بہت جلد ایک شدید غفلت کا شکار ہو جاتا ہے۔ سازگار زمینی احوال انسان کے اندر ایک خطرناک ذہنی فریب (delusion) پیدا کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ اپنے موجودہ عروج اور وسائل کے تسلسل کو ابدی سمجھ بیٹھتا ہے۔ قرآنِ مجید کی آیات انسان کو اسی نفسیاتی مغالطے سے چونکاتی ہیں کہ اگر کسی فرد یا گروہ کو برسوں سامانِ زیست سے لطف اندوز ہونے کی مہلت دی بھی جائے، اور بالآخر ان پر وہ گھڑی آن پہنچے جس کی انہیں خبر دی گئی تھی، تو یہ مادی آسائشیں ان کے کچھ کام نہ آئیں گی۔ دنیاوی وسائل کی فراوانی معروضی حقیقت (objective reality) پر پردہ ڈال کر انسان کو خود فریبی کے غار میں دھکیل دیتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انسانوں کو، خواہ ان کا تعلق مسلم معاشرے سے ہو یا غیر مسلم اقوام سے، اس فکری مغالطے سے نکالنا اور انہیں شعوری سطح پر بیدار کرنا ہر دور کا سب سے بڑا تقاضا رہا ہے۔ انبیاء کا بنیادی مقصد یہی تھا، اور ان کے بعد اب قرآنی پیغام کے ذریعے انسان کے اس خوابِ غفلت کو توڑنا ناگزیر ہے۔ یہ کام کسی بھی حال میں رکنا نہیں چاہیے؛ خواہ وہ مسلمانوں کی اندرونی اصلاح و تذکیر (انذارِ خاص) ہو یا تمام نوعِ انسانی تک سچائی کی عمومی ترسیل (انذارِ عام / universal warning)۔ مادی زندگی کے سحر کو باطل کرنے کا اس کے سوا کوئی ذریعہ نہیں کہ انسانوں کے سامنے قرآنِ مجید کے انتباہات کو واضح دلائل کے ساتھ پیش کیا جائے، اور انہیں یہ حقیقت یاد دلائی جائے کہ موجودہ احوال محض عارضی (temporary) اور امتحانی ہیں، جبکہ اصل حقیقت ہر فرد کا اپنے پروردگار کی گرفت میں آنا ہے۔
ہماری قریبی تاریخ میں اس نفسیاتی المیے کی ایک روشن مثال مغل دورِ حکومت کی صورت میں ملتی ہے۔ مغل سلاطین نے دہلی، آگرہ اور حیدرآباد جیسے مراکز میں شاندار محلات، قلعے اور تاریخی عمارات قائم کیں اور ان کی دیواروں پر انذار و عبرت پر مشتمل قرآنی آیات کو نہایت نفاست سے کندہ کروایا۔ مگر ان کا المیہ یہ تھا کہ ان کے نزدیک یہ کلام محض آرائش و زیبائش (aesthetic beautification) اور فنِ خطاطی کے مظاہرے کا ذریعہ بن کر رہ گیا۔ وہ ان کلمات کی نقاشی تو کرتے رہے، لیکن ان کے اندر پوشیدہ خدائی انذار (divine warning) سے اپنے دلوں کو بیدار نہ کر سکے اور ان آیات سے وہ زندہ سبق حاصل کرنے میں ناکام رہے جو ان کے ضمیر کو جھنجھوڑ سکتا تھا۔
اس تاریخی غفلت کی ایک نمایاں مثال آگرہ کا تاج محل ہے، جس کے صدر دروازے اور دیواروں پر سورۂ فجر کو مکمل طور پر تحریر کیا گیا ہے۔ اس سورہ کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ سرکش اقوام پر اللہ کے عذاب کا کوڑا کس طرح برسا اور تمہارا پروردگار ہر وقت گھات میں ہے (خدائی نگاہداشت / divine vigilance)۔ تاریخ کا یہ کیسا الم ناک تضاد ہے کہ انہوں نے اپنے ہی ہاتھوں سے سنگِ مرمر کی سلوں پر اپنے ممکنہ زوال کا فیصلہ رقم کر دیا، مگر اس کے ادراک سے مکمل طور پر محروم رہے۔ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ شان و شوکت اور عروج کے بعد اگر انسان خدا کے حضور عاجزی اختیار نہ کرے، تو تاریخ کا بے لچک قانون اسے زوال کی گہری کھائی میں گرا دیتا ہے۔ بالآخر ان کے ساتھ وہی معاملہ پیش آیا جس کی وعید ان کے اپنے محلات کے در و دیوار پر لکھی ہوئی تھی۔
یہ تاریخی حقیقت ہر فرد، خاندان اور معاشرے کے لیے ایک کھلا تازیانہ ہے۔ دنیاوی خوشحالی اور عارضی کامیابی ہمیشہ انسان کو فکری جمود اور مغالطے میں مبتلا کر دیتی ہے، جس کا انجام انجامِ کار ہلاکت کے سوا کچھ نہیں۔ اس تباہ کن غفلت کا علاج صرف یہ ہے کہ قرآنی دعوت اور انذار کے عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے۔ مسلم اور غیر مسلم دونوں طبقات کے سامنے اس الہامی سچائی کو بے کم و کاست پہنچانا لازم ہے، تاکہ انسان دنیا کے جھوٹے سہاروں سے نکل کر معروضی سچائی سے باخبر (aware) ہو سکے اور اس وقت سے پہلے سنبھل جائے جب توبہ اور واپسی کی تمام مہلتیں ختم ہو جاتی ہیں۔
(a) When, on behalf of God, the call for Truth appears at the level of a prophet, it appears in its final and perfect shape. That is why it becomes necessary for God’s punishment to visit any community which denies the prophet. However, until this punishment is actually administered, man considers himself safe from it. In order to prove the divine call baseless, he adopts various tactics. Sometimes he derides the prophet’s personality and sometimes he calls the Divine revelation brought by him spurious. Sometimes he says that if God is against them, why does He not punish them? The only responsibility of the prophet, or the preacher acting on behalf of the prophet, is that he should make the people aware of the Truth. All matters over and above that are the responsibility of God and He shows them this when He wills.